URDU NEWS

موثر مالیاتی انتظام کے باعث خسارہ وحسابات جاریہ کے کھاتوں کاو توازن بہتر ہوا، وزارت خزانہ

اسلام آباد:وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ موثر مالیاتی انتظام و انصرام کے باعث جاری مالی سال کے دوران مالیاتی خسارہ اور حسابات جاریہ کے کھاتوں کے توازن کے حوالہ سے اچھی پیش رفت ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کی بچت اور شرح مبادلہ کے استحکام کیلئے مالیاتی استحکام اور نظم و ضبط کلیدی حیثیت کا حامل ہے، اس کے اگرچہ قلیل المدتی بنیادوں پر نمو کے امکانات پر اثرات مرتب ہوتے ہیں تاہم طویل المعیاد بنیادوں پر خوشحالی اور نمو کیلئے یہ ضروری امر ہے، اس سے پیداوری استعداد اور پیداوار میں اضافہ یقینی ہو جاتا ہے۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہی گئی ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں سالانہ بنیادوں پر 11.21 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے دسمبر تک سمندر پار پاکستانیوں نے 14.1 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیجا۔ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات کا حجم 15.8 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس مدت میں ملکی برآمدات کا حجم 14.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 6.8 فیصد کم ہے۔ گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملکی برآمدات سے 15.2 ارب ڈالر حاصل ہوئے تھے۔
اس کے مقابلہ میں درآمدات میں بھی 18.2 فیصد کی شرح سے نمایاں کمی ہوئی ہے۔ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ملکی درآمدات کا حجم 29.5 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 36.1 ارب ڈالر تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں سالانہ بنیادوں پر 59.7 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے دسمبر تک حسابات جاریہ کے کھاتوں کا خسارہ 3.7 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9.1 ارب ڈالر تھا۔براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 58.7 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 460.9 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.114 ارب ڈالر تھا۔ اسی طرح پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کے حجم میں 180.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق 27 جنوری 2023 کو سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 3.087 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 5.656 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ گذشتہ سال 27 جنوری کو سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 15.750 ارب ڈالر اور بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 6.353 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 27 جنوری 2023 کو ایکسچینج ریٹ 262.61 روپے ریکارڈ کیا گیا جو 27 جنوری 2022 کو 176.98 روپے تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایف بی آر کے محصولات میں سالانہ بنیادوں پر 17.4 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔
جولائی سے دسمبر تک ایف بی آر کے محصولات کا حجم 3429 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 2920 ارب روپے تھا۔ نان ٹیکس ریونیو میں 58.4 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔ جاری مالی سال میں نان ٹیکس ریونیو کا حجم 822 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 519 ارب روپے تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری مالی سال میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے 130 ارب روپے جاری کئے گئے جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 252 ارب روپے تھے۔وزارت خزانہ کے مطابق جولائی سے نومبر تک کی مدت میں مالی خسارہ کا حجم 1169 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 151 ارب روپے تھا۔ پرائمری بیلنس کا حجم 511 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں منفی 36 ارب روپے تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں زرعی قرضوں کے اجراء میں 31.5 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے دسمبر تک زرعی شعبہ کو 842.4 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 640.8 ارب روپے تھے۔
بڑی صنعتوں کی پیداوار میں جولائی سے نومبر کے دوران 3.6 فیصد کی کمی ہوئی۔ اسی طرح پاکستان سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں جاری مالی سال کے دوران 2.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یکم جولائی 2022 کو کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس 41 ہزار 630 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا جو 27 جنوری 2023 کو 40 ہزار 451 پوائنٹس تھا۔مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں جاری مالی سال کے دوران 2.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یکم جولائی 2022ء کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا حجم 33.99 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو 27 جنوری 2023 کو 24.19 ارب ڈالر ہو گیا۔ نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 7.1 فیصد کی نمو ریکارڈ کی گئی۔ جولائی سے دسمبر تک 13693 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 12783 کمپنیاں تھیں۔