URDU NEWS

غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے پیداواریت میں اضافہ نا گزیر ہے، متوازن زراعت بہترین ماڈل ہے،ڈاکٹر اقرار احمد خان

فیصل آباد:جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمدخان نے کہاکہ سال2050تک دنیا کی آبادی9.7بلین ہو جائے گی جس کی غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے پیداواریت میں اضافہ نا گزیر ہے جبکہ جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے متوازن زراعت ایک بہترین ماڈل ہے جس سے غذائی اجناس کی پیداوار میں اضافہ اور فصلات کے نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔
زرعی اجناس میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روائتی طریقہ کاشت کی وجہ سے پاکستان کی فی ایکڑ پیداوار ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کاشتکاروں کے حقیقی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں تاکہ کسانوں کو درپیش مسائل پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ جدید زراعت کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ متوازن زراعت کے فروغ کیلئے پروٹوکول تشکیل دیاگیا ہے جس سے کسان استفادہ کرتے ہوئے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ یقینی بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پریسین ایگریکلچرمیں آئی ٹی اور سمارٹ ایگریکلچر کو استعمال کرتے ہوئے فصل اور زمین کو اس کے مطلوبہ اجزا متناسب مقدار میں مہیا کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں متناسب زراعت اور بائیو ٹیکنالوجی پر بہت کم کام کیا گیا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو کاشتکار کی دسترس میں لانے کیلئے کمرشلائزیشن کا عمل کیا جائے۔
ڈاکٹر اقرار احمد خان نے مزید کہا کہ ملکی سطح پر جدید اور متوازن زراعت کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی ترقی کو بھی ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے اس امرپر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ جامعہ زرعیہ کا سنٹر فار ایڈوانس سٹڈیزمختلف سیمینارزمنعقد کرکے ماہرین کے تجربات سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کررہا ہے۔تقریب سے ڈاکٹر قمرالزمان، ترقی پسند کاشتکار آفاق ٹوانہ،ڈاکٹر اعتزاز فاروق نے بھی خطاب کیا۔
کاشتکاروں کو میدانی علاقوں میں فصل خزاں کیلئے آلو کی سفید اقسام کی کاشت وسط ستمبر سے شروع کرنے کی ہدایت
فیصل آباد:ایوب ریسرچ کے ماہرین زراعت نے کاشتکاروں کو میدانی علاقوں میں فصل خزاں کیلئے آلو کی سفید اقسام کی کاشت وسط ستمبر سے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اے پی پی کو بتایا کہ کاشتکار میدانی علاقوں میں فصل خزاں کیلئے آلو کی سفید اقسام ڈایامنٹ، سانتے، بادشاہ، سلیمی، میلوڈی، چپس کیلئے استعمال ہونے والے آلو کی اقسام ہرمس، سٹرنا، لیٹونا، سرخ اقسام ایسٹر یکس، کروڈا، برنا،سمپلی ریڈوغیرہ کی کاشت 15 ستمبر سے شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ آلو پاکستان کی ایک اہم فصل ہے کیونکہ اس سے فی ایکڑ آمدنی اورغذائیت دوسری فصلوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ وطن عزیز کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اورگندم پردباؤ میں کمی لانے کیلئے آلوکی کاشت ازحد ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ پنجاب میں آلو کی 3فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جن میں میدانی علاقوں میں اس کی 2فصلیں موسم بہاروموسم خزاں اورپہاڑی علاقوں میں ایک فصل موسم گرما میں کاشت ہوتی ہے۔