URDU NEWS

جواراورباجرہ کی منظور شدہ ترقی دادہ اقسام کی کاشت 31 اگست تک مکمل کرنے کا مشورہ

محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو جوار کی منظور شدہ اقسام پاک ایس ایس، چکوال جوار، جے ایس 236، جے ایس 2002، ہیگاری اور باجرہ کی منظور شدہ ترقی دادہ اقسام بی وائی 18-، ایم بی 87-، گھانا اور بی ایس 2000کی کاشت 31 اگست تک مکمل کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہاہے کہ موسم سرما میں چارہ جات کی کمی پر قابو پانے کیلئے جوار اور باجرے کی کاشت بروقت مکمل کرلیں تاکہ اچھی پیداوار کا حصول ممکن ہو سکے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آبادخالد اقبال نے بتایاکہ جوار اور باجرہ جانوروں کا پسندیدہ چارہ ہے جس میں خشک سالی اور گرمی برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے بتایاکہ کاشت سے پہلے زمین کو ہموار کرلیا جائے پھر 2سے 3 مرتبہ ہل اور سہاگہ دے کر زمین تیار کرلی جائے اس کے بعد کھاد کی تمام مقدار زمین کی تیاری کے وقت ڈال دی جائے۔انہوں نے کہاکہ جوار کی فصل کو بذریعہ ڈرل قطاروں میں کاشت کرنا چاہئے جبکہ بطور چارہ کاشت کیلئے قطاروں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ اور غلہ کی فصل کیلئے قطاروں کا فاصلہ ڈیڑھ سے 2فٹ ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ باجرہ کی کاشت قطاروں میں بذریعہ کیرا کرنی چاہئے اور چارہ کی فصل کیلئے قطاروں کا درمیانی فاصلہ ایک فٹ جبکہ غلہ کی فصل کیلئے ڈیڑھ فٹ ہوناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار پودوں کا درمیانی فاصلہ 5سے 6انچ رکھیں اور بیج ڈیڑھ انچ گہرائی سے زیادہ نہیں ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ کھاد زمین کی ذرخیزی کے مطابق استعمال کی جائے جس کی شرح چارہ کی فصل کیلئے ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ اکتوبر اور نومبر میں اکثر چارہ جات کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اگست میں جوار اور باجرہ کی کاشت سے اس کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment