URDU NEWS

محکمہ زراعت پنجاب نے کپاس کی بہترپیداوار کے لئے سفارشات جاری کردیں

لاہور :ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کاشتکار 30 اپریل تک کاشتہ فصل کیلئے پودوں کی تعداد17ہزار5سو رکھیں اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 12 انچ رکھیں۔یکم تا31 مئی کپاس کے پودوں کی تعداد23ہزار تک رکھیں اوردرمیانی فاصلہ 9 انچ رکھیں۔کاشتکارکپاس کی منظور شدہ بی ٹی اقسام بی ایس15-،سی کے سی1-،سی کے سی3-،سی آئی ایم 663-،آئی یو بی2013-،نیاب878-،نیاب545 اور ایم این ایچ 1020-جبکہ نان بی ٹی اقسام میں نیاب کرن کاشت کریں کاشتکار کپاس کی دوسری منظور شدہ بی ٹی اقسام کا انتخاب اپنے علاقے،زمین کی قسم،پانی کی دستیابی اور محکمہ زراعت(توسیع) کے مقامی عملے کے مشورہ سے کریں۔بی ٹی اقسام کے ساتھ 10 فیصد رقبہ نان بی ٹی اقسام بھی کاشت کریں تاکہ حملہ آور سنڈیوں میں بی ٹی اقسام کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو سکے۔اگر بیج کا اگا 75 فیصد یا زیادہ ہو تو کاشت کیلئے بر اترا ہوا 6کلو گرام جبکہ بردار بیج8 کلو گرام فی ایکڑ استعمال کریں۔کاشتکار بوائی سے قبل بیج کو مناسب کیڑے مار دوائی لگا لیں تاکہ فصل ایک ماہ تک رس چوسنے والے کیڑوں بالخصوص سفید مکھی کے حملے سے محفوظ رہے۔
بیج کو بیماریوں سے بچانے کیلئے محکمہ زراعت(توسیع) کے عملہ کے مشورہ سے مناسب پھپھوندی کش زہر بھی لگا لیں۔کپاس کی کاشت ترجیحا پٹریوں پر کریں جس کیلئے مشینی طریقہ استعمال کریں یا ہاتھ سے چوپا لگائیں۔اگر کپاس کی کاشت ڈرل سے کرنی ہو تو قطاروں کا فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں اور جب پودوں کا قد ایک سے دو فٹ ہو جائے تو پودوں کی ایک لائن چھوڑ کر دوسری لائن پر مٹی چڑھا دیں۔
کپاس کی کاشت ترجیحا پٹریوں پر کریں۔پٹریوں پر کاشتہ فصل میں جڑی بوٹیوں کا انسداد آسان، کھادوں کا استعمال بہتر، پانی اور بارشوں سے ہونے والے نقصان سے بھی بچت ہوتی ہے۔ڈرل سے کاشتہ فصل کیلئے پہلی آبپاشی بوائی کے 30تا 35دن بعد اور بقیہ 12سے15 دن کے وقفے سے کریں۔پڑیوں پر کاشتہ فصل کیلئے بوائی کے بعد پہلا پانی 3 تا4 دن،دوسرا، تیسرا اور چوتھا پانی6 تا7 دن کے وقفے سے جبکہ بقیہ پانی 12 دن کے وقفے سے حسبِ ضرورت لگائیں۔کاشتکار پودوں کی تعداد پوری کرنے کیلئے چھدرائی کے عمل سے زائد پودے نکال دیں۔چھدرائی کا عمل بوائی کے 20 تا 25دن کے اندریا پہلے پانی سے پہلے یا خشک گوڈی کے بعد ہر حالت میں ایک ہی دفعہ میں مکمل کریں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ کاشتکار کھادوں کا استعمال زمین کے تجزیہ کی بنیاد پر کریں اور زمینی تجزیہ کے لئے محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے رابطہ کریں۔