URDU NEWS

ای سی سی نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت میں 13 فیصد اضافہ کردیا

سیاسی چیلنجز کے دوران حکومت نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت میں 13 فیصد اضافہ کردیا ہے جس میں سرکاری شعبے کی خریداری کا ہدف 3 کھرب 76 ارب روپے کی لاگت سے 69 لاکھ ٹن ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں چینی پاور پروڈیوسرز کو کھاد اور ادائیگیوں کے لیے 79 ارب روپے کے مزید فنڈز کی بھی منظوری دی گئی جس میں صوبوں کا جزوی اشتراک ہوگا۔
وزیر خزانہ کے علاوہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 ارکان میں سے صرف 2 نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی سمری پر گندم کی 22-2021 فصل کے لیے کم از کم امدادی قیمت 1950 روپے فی من سے بڑھا کر 2200 روپے کرنے کی منظوری دی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فصل کے لیے 3 کھرب 75 ارب 70 کروڑ روپے کی کل لاگت سے 69 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کا ہدف بھی مقرر کیا۔پنجاب کے لیے گندم کی خریداری کا ہدف 40 لاکھ ٹن مقرر کیا گیا جس کی کیش کریڈٹ کی حد 229 ارب روپے ہے۔
خیبرپختونخوا کو اپنے مالیاتی انتظامات سے محکمہ خوراک پنجاب سے 2 لاکھ ٹن خریدنے کا کہا گیا۔پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو 12 لاکھ ٹن کا ہدف دیا گیا اور اس کی کیش کریڈٹ کی حد بھی سپورٹ پرائس میں اضافے کی وجہ سے 65 ارب روپے کی سابقہ حد سے بڑھا کر ساڑھے 72 ارب روپے کر دی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سندھ کے لیے گندم کی خریداری کا 14 لاکھ ٹن کا ہدف بھی مقرر کیا جس کی کیش کریڈٹ کی حد 77 ارب روپے ہے۔
بلوچستان کے لیے خریداری کا ہدف ایک لاکھ ٹن دیا گیا جس میں کیش کریڈٹ کی حد 6 ارب 20 روپے ہے۔وزارت خوراک کی ایک اور سمری پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2021-2020 میں زراعت کے لیے وزیر اعظم کے پیکج کے تحت کھاد (ڈائیمونیم فاسفیٹ)، کپاس کے بیج اور سفید مکھی کے لیے کیڑے مار ادویات پر 2021 کے سیزن کے دوران خریف کی فصل پر کسانوں کو سبسڈی دینے کی تاریخ میں توسیع کردی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت پہلے ہی سندھ حکومت کو 3 ارب 89 کروڑ روپے اور بلوچستان حکومت کو 54 کروڑ 10 لاکھ روپے جاری کر چکی ہے۔اجلاس میں 30 جون 2022 تک سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی۔وزارت خوراک نے 2022 کے سیزن کے دوران خریف کی فصلوں کے لیے کھاد پر کسانوں کو سبسڈی دینے کی ایک اور سمری بھی پیش کی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فاسفیٹک کھاد کے لیے 50/50 شیئرنگ کی بنیاد پر اپنے موجودہ میکانزم کو استعمال کرتے ہوئے صوبوں کے ذریعے 24 ارب 26 روپے کی سبسڈی دینے کی منظوری دی جس کے ساتھ ٹریکنگ سسٹم کو مضبوط کرنے کی ہدایت بھی کی گئی، وفاقی حکومت 12 ارب 13 کروڑ روپے فراہم کرے گی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم کردہ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو فوری ادائیگیوں کے لیے خصوصی گردشی فنڈ اکاؤنٹ بنانے کے لیے پاور ڈویژن کو 50 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی۔چینی آئی پی پیز ایک طویل عرصے سے اعلیٰ سطح پر عدم ادائیگیوں کے لیے احتجاج کر رہے تھے اور ایندھن (خاص طور پر کوئلے) کے حصول اور بینکوں کی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے مالیاتی مسائل کا سامنا کرنے کی شکایت کر رہے تھے۔
وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین سے قبل حکومت نے چینی آئی پی پیز کو ایک کھرب ارب روپے کی ادائیگی کی منظوری دی تھی اور چینی قیادت کے ساتھ گردشی فنڈ کے ذریعے مزید فنڈز جاری کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے نصف رقم (50 ارب روپے) ادا کردی تھی۔دورہ چین کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے اعلان کیا تھا کہ چینی آئی پی پیز کو بقایا ادائیگیاں اور قرض اور سود کی ادائیگی کے حساب سے مالیاتی اداروں کو خودکار ادائیگیوں کے لیے گردشی فنڈ کے مسائل حل کیے جاچکے ہیں۔