URDU NEWS

قومی معیشت کے مختلف اشاریوں میں نمایاں بہتری ترسیلات زر، برآمدات، مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری اوربڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نمایاں اضافہ،مالیاتی خسارہ میں کمی

وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ جاری مالی سال کے دوران قومی معیشت کے مختلف اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، ترسیلات زر، برآمدات، مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری اوربڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نمایاں اضافہ جبکہ مالیاتی خسارہ میں کمی واقع ہوئی ہے، بین الاقوامی منڈیوں میں روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی کے نتیجہ میں آنیوالے مہینوں میں ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی متوقع ہے۔مہنگائی پرقابوپانے کیلئے حکومت جامع اقدامات کررہی ہے اوراس ضمن میں نہ صرف موزوں زری اورمالیاتی پالیسیاں تشکیل دی گئی بلکہ حکومت کی طرف سے اشیائے خوراک پرریلیف کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں، وزارت خزانہ نے امیدظاہرکی ہے حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں تجارتی توازن میں بہتری آئیگی۔ یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے قومی معیشت کے حوالہ سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہی گئی ہے۔
اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی طرح جاری مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں اقتصادی بڑھوتری کی رفتار جاری رہی۔ جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرمیں 9.7 فیصدکی شرح سے بڑھوتری ریکارڈکی گئی، گزشتہ مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں 11.8 ارب ڈالرکی ترسیلات زرریکارڈکی گئی تھیں جو جاری مالی سال کی اسی مدت میں بڑھ کر12.9 ارب ڈالر ہوگئی۔اس مدت میں ملکی برآمدات میں 28.9 فیصدجبکہ درآمدات میں 64.4 فیصدکی نموریکارڈکی گئی۔ جولائی سے لیکرنومبرتک کی مدت میں 12.3 ارب ڈالرکی برآمدات ریکارڈکی گئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 9.6 ارب ڈالرتھیں، اسی طرح درآمدات کا حجم 29.9 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 18.2 ارب ڈالرتھا۔حسابات جاریہ کاخسارہ 7.1 ڈالررہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں منفی 1.9 ارب ڈالرتھا۔پورٹ فولیوسرمایہ کاری میں اضافہ کا رحجان رہاجبکہ مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری میں 72.9 فیصد کی شرح سے نموریکارڈکی گئی، جاری مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 455.5 ملین ڈالرریکارڈکیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 263.4 ملین ڈالرتھا۔
جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران 23 دسمبر تک زرمبادلہ کے ذخائر کاحجم 20.27 ارب ڈالرتھا جو رواں سال 23 دسمبر کو23.96 ارب ڈالرہوگیا۔ایکسچینج ریٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اوراس وقت ایکسچینج ریٹ 178.12 روپے کی سطح پرہے۔
اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے دوران ایف بی آرکی محصولات میں نمایاں اضافہ ہواہے، جولائی تا نومبر2021تک کی مدت میں ایف بی آر کے محاصل میں 36.8 فیصد کی نموریکارڈ کی گئی ہے، نان ٹیکس ریونیومیں اضافہ کی شرح 5.4 فیصد ریکارڈکی گئی، وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت فنڈز کے اجرا میں 250 فیصدکی نموہوئی ہے۔جاری مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 392.7 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 112 ارب روپے تھا۔اعدادوشمارکے مطابق مالیاتی خسارہ میں اس مدت کے دوران کمی ریکارڈکی گئی ہے، مالیاتی خسارہ کاحجم 587 ارب روپے رہا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 775 ارب روپے تھا۔پرائمری بیلنس206 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 156 ارب روپے تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق زرعی شعبے کو قرضوں کے اجراء میں جاری مالی سال کے دوران 3.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جولائی سے نومبر تک کی مدت میں 488.5 ارب روپے کے زرعی قرضے جاری کیے گئے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 470.1 ارب روپے تھے۔ جولائی سے لے کر 3 دسمبر تک کی مدت میں نجی شعبے کو قرضوں کے اجراء میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس مدت میں نجی شعبے کو 454.3 ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں منفی 15.6 ارب روپے تھے۔اعداد و شمار کے مطابق صارفین کے لئے قیمتوں کا حساس اعشاریہ نومبر میں 11.5 فیصد جبکہ جولائی سے نومبر تک کی مدت میں 9.3 فیصد رہا۔ گزشتہ سال نومبر میں قیمتوں کا حساس اعشاریہ 8.3 فیصد جبکہ جولائی سے نومبر تک 8.8 فیصد تھا۔ جولائی سے اکتوبر تک کی مدت میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 3.6 فیصد کی شرح سے نمو ہوئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 5.1 فیصد تھی۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں 7.39 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یکم جولائی 2021ء کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 47ہزار 801 پوائنٹ پر تھا جو 23 دسمبر کو 44 ہزار 267 پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 9.55 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ یکم جولائی 2021ء کو مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا حجم 8.38 ٹریلین روپے رہا تھا جو 23 دسمبر کو 7.58 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 1.52 فیصد کی شرح سے نمو ہوئی ہے۔ جولائی سے نومبر تک کی مدت میں 10395 کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 10 ہزار 239 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ریکارڈ کی گئی تھی۔