URDU NEWS

میراسوال یہ ہے؟

مچھلی مستقبل کی پروٹین ہے | ایکواکلب فارمرز گیدرنگ

آل ٹیک پاکستان نے 09-11ستمبر 2021ء تک مری میں ایکواکلب گیدرنگ کا اہتمام کیا۔ جس میں فش فارمرز، فیڈ ملرز، ہیچری کے نمائندوں اور یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تین روزہ فارمرز گیدرنگ میں فش فارمنگ سے متعلق مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
ڈاکٹر شہزاد نوید جدون سی ای او /ڈائریکٹر آل ٹیک پاکستان نے فارمرز گیدرنگ کی ابتداء میں تمام شرکاء کو شعبہ فشریز کی ترقی کے لیے کی جانے والی آل ٹیک کی کاوشوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح فارمرز کی ترقی اور فارمز کو منافع بخش بنانا ہے۔ جس کی مثال آل ٹیک کے بہترین سائنٹفک سلوشنز(پروڈکٹس)، اے ٹیم کے ماہرین اور آل ٹیک ایکو ویلیو کریشن ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم ہمہ وقت فارمرز کی مدد اور رہنمائی کے لیے موجود ہے۔
ان تین دنوں کے دوران بہت سے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی،جس میں فارمرز، فیڈ ملرز اور ہیچری کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا گیا کہ فش فارمنگ کو نئی جہت سے روشناس کرایا جائے، جس کی مدد سے مچھلی کی بڑھوتری، بیماریوں سے بچاؤ اور کم جگہ (ایریا)سے زیادہ پیداوار حاصل کی جائے۔
اس دوران ایک اہم معاملے کو بھی زیربحث لایا گیا جوکہ فش فارمرز کی رہنمائی اور سہولت کے لیے نمائندہ جماعت (مخصوص پلیٹ فارم) کی عدم موجودگی ہے جبکہ اس جماعت کا قیام گورنمنٹ تک فارمرز کی رسائی اور ان کے مسائل کے بروقت حل کے حصول کے لیے لازم ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر شہزاد نوید جدون نے فش فارمرز ایسوسی ایشن کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہوگا جس سے فارمرز کے تمام مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ نہ صرف مسائل کا حل بلکہ صارفین کی آگاہی اور مچھلی کے فوائد سے متعلقہ مہم بھی چلائی جاسکتی ہے۔
تمام شرکاء نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے فش فارمرز ایسوسی ایشن کے قیام کو انتہائی ضروری اور اہم قدم قرار دیا۔ اس موقع پر اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ تمام فارمرز مل کر مستقبل قریب میں اس ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لائیں گے۔ ایسوسی ایشن کے لیے باقاعدہ طور پر قوانین کی تیاری، الیکشن ٹربیونل اور رجسٹریشن کے عمل پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم اپنی ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں نہیں لاتے تب تک ہمارے مسائل کا بروقت حل ممکن نہیں۔ فش فارمنگ ایک الگ انڈسٹری ہے اور درحقیقت اس کے مسائل بھی دوسرے ایگری شعبہ جات سے قدرمختلف ہیں لہذا ضروری ہے کہ فش فارمنگ کی بطور الگ انڈسٹری قانون سازی کی جائے تاکہ فارمر طبقے کو ان کا بہترین معاوضہ مل سکے نیز ملکی معاشیت کو بھی فروغ ملے۔
سیڈ اور فیڈ کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی جس میں فیڈ ملز کے نمائندوں نے فارمرز کو آئندہ بھی بہترین فیڈ مہیا کرنے کی یقین دہانی کرائی اور بہت سارے مسائل جو کہ فارم پر پائے جاتے ہیں ان کے حوالے سے بھی حل تجویز کیے۔ فش فارمنگ کی کامیابی کی پہلی سیڑھی سیڈ ہے اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ہیچری نمائندگان نے بتایا کہ ہماری اولین ترجیح بہترین سیڈ مہیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جینیات پر کام ہورہا ہے اور ہر سال بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ کم لاگت میں مچھلی کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کے لیے فارمرز کو فارم مینجمنٹ بہتر کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ تالاب مینجمنٹ کے حوالے سے ماہرین نے فارمرز کو بتایا کہ تالاب مینجمنٹ میں بین الاقوامی طریقوں کو اختیار کر کے بہت سی بیماروں سے بچا جاسکتا ہے۔ فارمرزکو چاہیے کہ وہ تالاب کے پانی کی روزانہ کی بنیاد پر جانچ کریں جن میں آکسیجن لیول، امونیا لیول، (pH, Salinity, Temp) کو چیک کرتے رہیں۔
اس موقع پر ہائی ویلیو فش کی فارمنگ اور ایکسپورٹ کے پہلو پر گفتگو کے دوران فارمرز کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی کہ وہ مستقبل میں ترقی اور کامیابی کے لیے ہائی ویلیو فش کی فارمنگ اور ایکسپورٹ کی تمام شرائط کو پورا کریں۔ جس سے ملک کی ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ فش فارمرز کو گورنمنٹ کی طرف سے مراعات کاحصول بھی آسان ہوجائے گا۔
کنزیومر ایجوکیشن اور کنزیومرکی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے فارمنگ کی جائے۔ فش کی نئی ڈشیز متعارف کرائی جائیں۔ تمام شرکاء نے متفقہ طور پر فش کے سارا سال کھانے کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمی کی نشاندہی کی کہ ”فش صرف سردیوں میں کھانی چاہیے“۔ مچھلی پورا سال کھانے کے حوالے سے صارفین کی آگاہی مہم کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔سوشل میڈیا کے استعمال سے بھی صارفین کو سارا سال مچھلی کھانے کے فوائد پہنچائے جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ فش فارمرز ایسوسی ایشن کے بنیادی کاموں میں سے ایک کام کنزیومر ایجوکیشن ہوگا۔
تین روزہ گیدرنگ کے دوران سیروتفریح، بون فائر، ہائیکنگ بھی کی گئی۔ تمام شرکاء نے ڈاکٹر شہزاد نوید جدون ڈائریکٹر/سی ای او آل ٹیک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ اور اے ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان تین دنوں میں باہمی گفت وشنید سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا جوکہ ان کے کاروبار کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔
فارمرز نے کہا کہ وہ انتہائی مشکور ہیں کہ آلٹیک نے ایک بہترین گیدرنگ کا اہتمام کیا جبکہ ان کے لیے فارم سے نکلنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں جس کے ذریعے فش فارمنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد آپس میں آئیڈیاز اور پریکٹسسز کا تبادلہ کر سکیں۔