URDU NEWS

ایکسپورٹ 21.393بلین ڈالرز سے بڑھ کر 25.304بلین ڈالرز کی سطح تک پہنچ گئی

پاکستان کی برآمدات میں مالی سال 2020-21میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 18.28فیصد کی شرح سے اضافہ

پاکستان کی برآمدات میں مالی سال 2020-21میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 18.28فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے اور ایکسپورٹ 21.393بلین ڈالرز سے بڑھ کر 25.304بلین ڈالرز کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔مزکورہ مجموعی ایکسپورٹس میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل گروپ کا ہے جو 60.86فیصد ہے جبکہ نٹ ویئر ہوزری کا حصہ 15.08فیصد بنتا ہے۔اسی طرح ٹیکسٹائل ایکسپورٹ گروپ میں نٹ ویئر 25فیصد حصہ کے ساتھ سرفہرست ہے۔سال2021-22میں نٹ ویئر ایکسپورٹ کا حصہ 20فیصد تک پہنچے کا امکان ہے۔ چیف کوآرڈینیٹر و سابق چیئرمین، پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن محمد جاوید بلوانی کے مطابق کورونا وباء کے باوجودنٹ ویئر ہوزری کی ایکسپورٹ مالی سال 2020-21میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36.57فیصد اضافہ ہوا اور نٹ ویئر ہوزری کی ایکسپورٹ 2.794بلین ڈالرز سے بڑھ کر 3.816بلین ڈالرز کی سطح تک پہنچ گئی اور اس طرح نٹ ویئر سیکٹر نے ملک کیلئے سب سے ذیادہ زرمبادلہ کمایا۔زرمبادلہ کی یہ رقم ریڈی میڈ گارمنٹس کی ایکسپورٹس سے 25.83فیصد، بیڈویئر کی ایکسپورٹس سے 37.68فیصد اور ٹاول کی ایکسپورٹس سے307فیصد زیادہ ہے۔اگر نیٹیڈ بیڈ شیٹس اور نیٹیڈ فیبرک کو بھی شامل کر لیا جائے تو نٹ وئیر سیکٹر کی زرمبادلہ کی رقم 4.532بلین ڈالرز بنتی ہے جب ٹیکسٹائل گروپ کا 29.20فیصد اور مجموعی ایکسپورٹس کا 17.91فیصد ہے۔کورونا وباء اور دیگر چیلنجز کے باوجودنٹ ویئر ایکسپورٹ میں اہم سنگ میل عبور کرنے پر انھوں نے نٹ ویئر ہوزری ایکسپورٹرز کو سراہا۔انھوں نے بتایا کہ ملک کے 100بڑے ایکسپورٹرز میں سرفہرست اول اور دوم پوزیشن پر نٹ ویئر ایکسپورٹرز ہیں جبکہ 100 بڑے ایکسپورٹرز کی فہرست میں نٹ ویئر ہوزری ایکسپورٹرز کی تعداد 11ہے جو باعث اعزاز ہے۔انھوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حکومت نٹ ویئر ہوزری سیکٹر پر خصوصی توجہ دے کیونکہ اس سیکٹر میں فروغ و ترقی کیلئے وسیع مواقع موجودہیں۔انھوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی ایکسپورٹ بھی نٹ ویئر کی ہے جو16.960بلین ڈالرز پر محیط ہے جو اس کی مجموعی ایکسپورٹ کا 43.66فیصد ہے۔دنیا کی سالانہ نٹ ویئر امپورٹس تقریباً 208بلین ڈالرز ہے جس میں پاکستان کا حصہ صرف1.83فیصد جبکہ بنگلہ دیش کا حصہ 8.13فیصد ہے۔نٹ ویئر سیکٹر میں ترقی آسانی کے ساتھ قلیل مدت میں ممکن ہے۔انھوں نے افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نٹ ویئر ہوزری سیکٹر کو اپنی توجہ سے محروم کر رکھا ہے اور پاکستان ہوزری مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن جو نٹ یئر سیکٹر کی مجاز نمائندہ ایسوسی ایشن ہے اس کے ساتھ اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اور مشاورتی اجلاس نہیں کئے جاتے۔ حتاکہ حکومت کی طرف سے حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان کی ہدایات پر تشکیل کردہ نیشنل ایکسپورٹ ڈولپمنٹ بورڈ میں بھی پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ٹیکسٹائل اور اپیرئل سیکٹر میں انفرادی طور پر کاروباری شخصیات کو بورڈ کا رکن بنایا گیا ہے جبکہ ایسوسی ایشن کے چیئرمین و نمائندگان جو ٹیکسٹائل سیکٹر اور بالخصوص چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے معاملات اور مسائل کو بخوبی جانتے ہیں انھیں رکنیت سے محروم رکھا گیا ہے۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کو فوری طور پر نیشنل ایکسپورٹ ڈولپمنٹ بورڈکا رکن بنایا جائے۔ایسوی ایشن کے پاس حقیقی اعداد و شمار موجود ہوتے ہیں جو حکومت کے لئے اہم ہوتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران تقریباً 30فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز نے 17فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے لیکویڈٹی مسائل کے باعث کاروبار بند کر دیا۔لہٰذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت چھوٹے اور درمیانہ درجے کے ایکسپورٹرز پر خصوصی توجہ دے اور ان کے مسائل حل کرے تاکہ ایکسپورٹس میں اضافہ ممکن ہو اور نئے ایکسپورٹرز بھی پیدا ہوں۔انھوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ ایکسپورٹ ڈولپمنٹ فنڈ کے بورڈ پر بھی پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کو رکنیت نہیں دی گئی۔انھوں نے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی کہ نٹ ویئر ہوزری کی ایکسپورٹ میں بہترین کارکردگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کو نیشنل ایکسپورٹ ڈولپمنٹ بورڈ اور ایکسپورٹ ڈولپمنٹ فنڈ کے بورڈ میں شامل کرنے کے احکامات جاری کریں۔ ایکسپورٹس حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ایکسپورٹرز حکومت سے دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت سابقہ زیرو ریٹنگ نو پیمنٹ نو ریفنڈ کا نظام بحال کرے جس کا نفاذ ایس آر او1125کے تحت کیا گیاتھا یا پھر سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے گھٹا کر 5فیصد کرے، ایکسپورٹ ڈولپمنٹ سرچارج کو معطل کرے کیونکہ اس وقت ا س فنڈ میں حکومت کے پاس 58ارب روپے موجودہیں اور حکومت سالانہ 1.5تا2ارب روپے اس سے خرچ کرتی ہے، اسطرح اس فنڈ کو خرچ ہونے میں 29سال لگیں گے، گیس کے نرخ 786روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اور بجلی کے نرخ 7.5سینٹ جون 2022تک مقرر کئے جائیں اور آر ایل این جی6.5ڈالر ز فی ایم ایم بی ٹی یو پاکستان بھر بشمول کراچی یکساں دی جائے۔ انھوں نے ایس ایم ای ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو اسپیشل ٹیکس ریجم میں شامل کرنے اور ٹیکس کم کرنے یعنی 100ملین روپے ٹرن اوور پر 0.25فیصد اور 250ملین ٹرن اوور تک 0.50فیصد ٹیکس ریٹ مقرر کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔