URDU NEWS

وفاقی بجٹ پچھلے سال کی نسبت بہتر ہے،ویلیوایڈیڈٹیکسٹائل ایکسپورٹرز

کراچی (آن لائن)ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز نے وفاقی بجٹ 2021-2022 کو عمومی تناظر میں گزشتہ بجٹ کی نسبت بہتر خیال کیا ہے مگر ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی اہم بجٹ تجاویز اور اولین مطالبہ زیرو ریٹنگ نو پیمنٹ نو ریفنڈ کا نظام بحال کرنے یا سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے کم کر کے 5فیصد کرنے پر غور نہ کرنے پرٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ناخوش اور مضطرب ہیں۔حکومت نے بجٹ میں ایکسپورٹرز کیلئے و دہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 0.5فیصد کرنے اورایکسپورٹ ڈولپمنٹ سرچارج کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ 17فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کے بعد سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز بالخصوص اسمال اینڈ میڈیم ایکسپورٹرز مسلسل مالی دباؤ کا سامنا کررہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی لیکویڈیٹی پھنس جاتی ہے اور انھیں انڈسٹری چلانے، یوٹیلیٹیز کی ادائیگی، اسٹاف اور ورک فورس کی تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات ہوتی ہیں۔ریکارڈ پر موجود ہے کہ اس وجہ سے 2020میں 33فیصد ایکسپورٹرز نے اپنا ٹیکسٹائل کا کاروبار بند کر دیا۔ 2021-2022میں اگر 17فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کم یا صفر نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ 2021میں کئی دیگر اسمال اور میڈیم ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز جو 2020میں اپنا کاروبار بچانے میں کامیاب ہو گئے وہ اس سال مالی مشکلات کی وجہ سے اپنا کاروبار بند کردینے پر مجبور ہو جائیں گے۔لہٰذا زیرو ریٹنگ نو پیمنٹ نو ریفنڈ کا نظام کی بحالی یا سیلز ٹیکس کی شرح 17فیصد سے کم کر کے 5فیصد کرنا اسمال اینڈ میڈیم ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کی بقاء کیلئے ناگزیر ہے۔حکومت کی ایکسپورٹ دوست پالیسی اور بجٹ میں ایکسپورٹ کی حمایت جاری رکھنے کے اعلان کے معنی خیز نتائج کا ثمر حاصل نہ ہو گاجب تک ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے ٹیکسیشن معاملات کو حکومت سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریلیف نہ دے۔ وزیر خزانہ فوری طور پر ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے وفد کو ملاقات کا وقت دیں تاکہ ایکسپورٹرزبجٹ سے متعلق تحفظات اور بجٹ بے ضابطگیوں پر اپنے موقف پیش کرسکیں۔یہ مطالبات پی ایچ ایم اے کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کئے گئے۔