URDU NEWS

عالمی سطح پر زرعی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں بھوک وافلاس بڑا چیلنج بن کر ابھرے گی، وفاقی وزیر سید فخر امام

تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے غذائی قلت سنگین مسئلہ ہے جو پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی میں بھی اہم رکاوٹ ہے
پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کو خوشحال بنانے کیلئے ہنگامی سطح پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔، فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کی 42ویں کانفرنس سے ویڈیو لنک خطاب
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ اگر عالمی سطح پر پیدا ہونے والے زرعی بحران پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں بھوک وافلاس بڑا چیلنج بن کر ابھرے گی، تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے غذائی قلت کا یہ سنگین مسئلہ ہے جو پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی میں بھی اہم رکاوٹ ہے، پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کو خوشحال بنانے کے لئے ہنگامی سطح پر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کی 42ویں کانفرنس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سید فخر امام کا کہنا تھا کہ زراعت پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار میں زرعی شعبے کا 19.3فیصد حصہ ہے اور ملک کا 35فیصد مزدور طبقہ اسی شعبے سے وابستہ ہے جبکہ معیشت کے دیگر شعبوں کی ترقی میں بھی زراعت کا مرکزی کردار ہے۔ انہوں نے کہاکہ زراعت کے شعبے کی ترقی سے خوراک سے متعلق صحت مند مصنوعات، صنعتی سامان اور زرعی اور خام مال کی فراہمی کی مانگ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دیہی معیشت کی ترقی اور خوراک کے تحفظ یقینی بنانے کے لئے زرعی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ زراعت کی ترقی سے نہ صرف چھوٹے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی علاقوں میں زراعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس اقدام کے غربت میں کمی اور معاشرتی استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی زیادہ تر دیہی آبادی کا روزگار زرعی شعبے سے وابستہ ہے، پاکستان میں زرعی پیداوار کا دیہی علاقوں میں رہنے والے مزدوروں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور غربت کے خاتمے میں اہم کردار ہے۔ فاقی وزیر نے کہا کہ آج پوری دنیا کو زرعی بحران کا سامنا ہے، تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی جلد ہی 8 ارب نفوس تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 600 ملین افراد کو خوراک کی کمی کا سانا ہے جبکہ 100 ملین سے زیادہ بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، بدقسمتی سے کورونا وباء نے اس صورتحال میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے اور مزید لوگوں کو غربت کی لکیر کی طرف دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اہم عدم مساوات کے ساتھ مجموعی آبادی میں غذائیت کی کمی کا تخمینہ 21 فیصد کے لگ بھگ ہے، غذائی قلت کا یہ پھیلاؤ عوامی صحت سے سنگین مسئلہ ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی میں بھی سنگین رکاوٹ ہے۔ وفاقی وزیر سید فخر امام نے شرکاء کو بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق غذائیت سے ہر سال پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار میں تقریبا 3 3 فیصد کمی کا سامنا ہے جس سے جی ڈی پی میں 3.7 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوتی ہے اس لئے پاکستانی عوام کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے مجموعی طور پر غذائیت کی کمی جیسے سنگین مسئلے پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔سید فخر امام نے مزید کہا کہ کورونا وباء کے کے بحران سے پیدا ہونے والی کسادبازی سے نمٹنے کے لئے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں ترقی پذیر ممالک کیلئے ”قرض سے نجات پر عالمی اقدام“ سمیت متعدد تجاویز پیش کی تھیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وباء سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لئے ابتدائی مالی اعانت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جامع قرضوں سے نجات اور تنظیم نو، ایس ٹی ڈر کی مد میں 500 ارب ڈالر کی تخلیق، بڑی رعایتی مالی اعانت اور ترقی پزیر ممالک سے غیرقانونی ذرائع سے لوٹی ہوئی رقوم کی بیرون ملک منتقلی کو روکنے اور امیر ممالک کی جانب سے ایسی رقوم کی متعلقہ ممالک کو واپسی میں مدد فراہم کرنے جیسے اقدامات اٹھانے کی تجویز دی تھی۔ وفاقی وزیر سید فخر امام نے پاکستان کی طرف سے غربت او رخوراک کی کمی اور زرعی شعبے کی ترقی کے لئے کئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان غربت اور بھوک کے خاتمے کے خلاف کوششوں کو مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کی ترقی کے لئے سرسبز ماحول اور پائیدار زرعی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کا فروغ، شاہراؤں کے ڈھانچے کو بہتر بنانے اور خوراک ذخیرہ کرنے کے لئے گوداموں کا قیام متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے منڈیوں سمیت مالی انفراسٹرکچر سے خوراک کے نظام میں کافی حد تک بہتری آئے گی جو خوراک اور غذائی تحفظ یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کم قیمت والی فصلوں کو منافع بخش فصلوں پر منتقل کرنے کی طرف توجہ دی جا رہی ہے ٗ اس اقدام سے ملک بھر کے چھوٹے کاشتکاروں کو خودکفیل بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ حکومت کسانوں کی صلاحیت بڑھانے کے لئے بہتر سہولیات اور آسان قرضوں کی فراہمی، منافع بخش فصلوں،جدید اقسام تک رسائی اور وافر مقدار میں دستیابی سمیت متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے سے وابستہ خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔ سید فخر امام کا کہنا تھا کہ پاکستان جدید زرعی ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کو اپنا کر زرعی شعبے کی ترقی اور خوراک کی کمی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھنا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے پیداواری وسائل کے موثر استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور براڈبینڈ رسائی کو یقینی بنانا، ڈیجیٹل خواندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر ترسیل کو مزید موثر بنانا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر سید فخر امام کا کہنا تھا کہ مسابقتی اور تقابلی قیمتوں کے نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں زرعی اور کھانے پینے کی اشیاء کی مارکیٹ میں مناسب قیمتوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی منڈیوں پر طویل عرصے سے آڑھتیوں اور ذخیرہ اندوزوں کی اجارہ داری ہے جن کی من مانیوں کی وجہ سے مارکیٹ ہیرا پھیری کا شکار ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت آ گیا ہے کہ چھوٹے کسانوں کو اب کارپوریشنوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا تاہم اس کے ساتھ بین الاقوامی زرعی تجارت کو بھی معقول قرار دیا جانا چاہئے کیونکہ بعض متمول معیشتوں کے ذریعے فراہم کی جانے والی بڑی زرعی سبسڈی عالمی منڈیوں کو مسخ کرتی ہے جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھنے والے کسانوں کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔معیاری اور صحت مند خوراک کے حوالے سے سید فخر امام نے کہا کہ پاکستان کو کھانے کی کھپت کے طریقوں اور ان نمونوں کی تائید کرنے والے فوڈ سسٹم پر دوبارہ غور کرنا چاہئے، ہم بھی بہتر کھا سکتے ہیں اور بہت سارے پاکستانی کم کھانے میں اچھا کرتے ہیں، پاکستان فطرت کے لئے بڑے احترام کے ساتھ کھانا تیار کرسکتا ہے، ہم جھیلوں، ندیوں اور سمندروں کی آلودگی کو روک سکتے ہیں، ہم کم پانی،دھرتی کے لئے خطرناک کیمیکل کے بغیر بہتر انداز کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ زرعی شعبے میں جدت لانے کے حوالے سے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نے بتایا کہ ملک میں زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کاشتکاروں کو زرعی پیداوار بڑھانے کے لئے جدید طور طریقوں اور نئے علوم کے ساتھ متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔آب و ہوا کی تبدیلی کے دور میں علم پر مبنی زراعت اس سے بھی بڑی ضرورت ہے جہاں سخت ماحول اور انتہائی موسمی مظاہر ہمارے پیداواری زمین کی تزئین، اقسام اور تکنیکوں کو تبدیل کررہے ہیں۔آخر میں وفاقی وزیر سید فخر امام نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باوجود پاکستان نے کورونا وباء کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر ضرورت مند افراد میں 8 ارب ڈالر کا امدادی پیکج تقسیم کیا بالخصوص خواتین اور بچوں سمیت غریب ترین خاندانوں اور کم آمدنی والے افراد کو ہنگامی طورپر امدادی رقوم فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا بیس کو استعمال کرتے ہوئے یہ ہدف احساس پروگرام کے ذریعے کامیابی کے ساتھ حاصل کیا۔یہ پروگرام پاکستان کی تاریخ میں غربت کے خاتمے کے خلاف سب سے بڑا پروگرام تھا۔