URDU NEWS

ایکواکلچر فارمرز ایسوسی ایشن

ڈاکٹر شہزاد نوید جدون

0300-0700007 | sjadoon@alltech.com

اس ایسوسی ایشن کا مقصد ایکواکلچرسے وابستہ فارمرز، فیڈ ملرز، ہیچری مالکان اور پروسیسر حضرات کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا اورباہمی اشتراک سے ان کے بروقت موثر حل تلاش کرناہوگا نیز یہ ان کےبنیادی حقوق کی محافظ جماعت ہوگی۔

اس ایسوسی ایشن کی تشکیل گورنمنٹ اور پرائیوٹ سیکٹر کے درمیان روابط کوبہتراورمضبوط بنانے میں موثر ثابت ہوگی نیز یہ ادارے مل کر منظم طریقے سے ایکواکلچر کی ترقی اور فروغ کے لیے ایک سازگار کاروباری ماحول مہیا کر سکیں گے۔ اس ایسوسی ایشن کے ذریعے فارمرز کی گورنمنٹ تک رسائی کویقینی بنایا جائے گا تاکہ گورنمنٹ کے سامنے حقائق پر مبنی حقیقی صورتحال پیش کی جائےاور ذیادہ سےذیادہ گورنمنٹ کی حمایت حاصل کی جائے۔

گورنمنٹ اورایکواکلچرفارمرز ایسوسی ایشن کے باہمی تعاون سے ایکواکلچر پالیسی،  ترقیاتی پروگرامز اور قابل حصول منصوبے تشکیل دیئے جا سکتے ہیں جو کہ اس سیکٹر کو “انڈسٹری” کا درجہ حاصل کرنے میں نہایت اہم ثابت ہونگے۔ ہمارے سامنے مختلف صنعتوں (پولٹری، ڈیری) کی مثالیں ہیں جن کی ترقی واستحکام کی ایک بڑی وجہ ان کی نمائندہ ایسوسی ایشن ہیں جو اجتماعی طور پر ان انڈسٹری کی ترقی و بہبود کے لیے کوشاں ہیں۔ ایکواکلچرسیکٹرکوبھی درحقیقت ان تجربات سےسبق حاصل   کرنے کی ضرورت ہے اورچاہیےکہ ابتدائی مراحل ہی سے منظم ہو کر صحیح سمت کا تعین کریں، اس کےساتھ ہی  ایکواکلچر فارمرز ایسوسی ایشن کے قیام کو یقینی بنائیں تاکہ فارمرز کو ذیادہ سےذیادہ سہولت اور ترقی کے مواقع فراہم کیئے جائیں اورایکواکلچرپاکستان کی نئی راہیں ہموارکی جائیں۔

ایکواکلچر میں بہت استعداد(potential)  ہے تاہم اس سےاحسن طریقہ سے مستفید ہونے کے لیے لازم ہے کہ وقت کی ضرورت کو سمجھا جائے اور ایک ایسوسی ایشن کی صورت میں متحرک ہو کر کام کیاجائے تاکہ حال کے ساتھ ساتھ مستقبل میں درپیش مسائل (خوراک کی فراہمی، پروٹین کی کمی، ماحولیاتی تبدیلی اور ذریعہ روزگار وغیرہ) سے بہتر نمٹنےکے لیے موثر لائحہ عمل تشکیل دیا جاسکے۔

 بلآخر دنیا میں ایکواکلچر میں بڑھتی جدت نے پاکستان کا بھی رخ کرلیا۔ اس کاروبار میں بڑھتےرحجان کی دوبڑی وجوہات یہ ہیں کہ مچھلی دوسرے پروٹین کے ذرائع (مرغی،دودھ وغیرہ) کےمقابلے میں ایک موثرکنورٹرہےنیزفش فارمنگ ماحولیاتی اعتبار سے بھی کم منفی اثرات رکھتی ہے۔  ایکواکلچرکوالٹی پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے اور مچھلی بہت سے اہم نیوٹرینٹس (nutrients) کا مرکب ہے جو کہ انسانی نشو ونما کے لیے لازم ہوتے ہیں۔ ایکواکلچر سے نہ صرف انسانی پروٹین کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ ایک بہترین ذریعہ معاش بھی ہے۔ پاکستان میں ایکواکلچر فارمنگ بڑی زوروشور سے فروغ پارہی ہے لیکن اس کا ذیادہ سہرا پرائیوٹ سیکٹر کو جاتا ہے. یہ اس بات کی اکاسی کرتا ہے کہ فش فارمنگ برادری اب ذمہ دارہورہی ہے اور ترقی کےلیےجدید طریقوں کو اختیارکرنے کےلیے تیار ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کے باعث ایکواکلچرسیکٹر پاکستان میں اب تک بطور ایک “انڈسٹری”کی صورت میں ابھرنے میں ناکام رہاہے۔

پاکستان کے بیشتر علاقوں میں فش فارمنگ روایتی طریقوں سے کی جارہی ہے۔ تاحال   فارمرز کی جدید ٹیکنالوجی، اس سے متعلقہ علم اور اہم بنیادی سروسز تک رسائی محدود ہے۔ اگرچہ گورنمنٹ اورپرائیوٹ اداروں کی جانب سے اس سیکٹر کی ترقی و بہبود کے لیے کئی منفرد اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن آج بھی چھوٹا فارمر طبقہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور ترقی کی راہ میں بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے کیونکہ انہیں یہ مواقع بروقت میسر ہی نہیں ہوتے۔

ایکواکلچرفش فارمنگ سپلائی چین کے تمام عناصر(فارمرز، فیڈ ملرز، ہیچری مالکان ، پروسیسروغیرہ) نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور اس سیکٹر کی ترقی وبحالی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہے۔  پس ضروری ہے کہ تمام اکائیوں کو یکجہ کیا جائے اور مجموعی طور پر ایک نمائندہ جماعت “ایکواکلچرفارمرز ایسوسی ایشن” قائم کی جائےجو کہ اس سیکٹر کوبحیثیت انڈسٹری فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کرے۔