URDU NEWS

ایکوا آئیڈیاورکشاپ انٹرنیشنل

ایکوا آئیڈیاورکشاپ انٹرنیشنل

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور۔ملتان کیمپس

آل ٹیک پاکستان، قادر فش فارم اینڈ ہیچری اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے اشتراک سے ملتان میں ایک روزہ ایکوا آئیڈیا ورکشاپ انٹرنیشنل کا انعقاد کیا گیا۔
اس ورکشاپ کا مقصد بالخصوص فارمرحضرات اور ماہرین ایکواکلچر فش فارمنگ کو ایک منفرد پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا جہاں وہ اپنے تجربات کو شیئر کرسکیں اور مل کر اس انڈسٹری کے فروغ کے لیے کام کرسکیں۔ نیز اس ورکشاپ کے ذریعے فارمرز کو جدید ٹیکنالوجی، فنکشنل فیڈ، فارم مینجمنٹ سے متعلق بنیادی معلومات اور آگاہی فراہم کرنا تھا۔ایکوا انڈسٹری کے چیلنجز کومدنظر رکھتے ہوئے فارمرز کے لیے ایکوا ویلیو کریشن ماڈل(Aqua Value Creation Model)بھی متعارف کروایا گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر اسد معراج
پرنسپل۔ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور ملتان کیمپس
حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر اسد معراج، پرنسپل ،یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور ملتان کیمپس کا کہنا تھا کہ ایکوا انڈسٹری کے فروغ کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا آج ان ماہرین کو یہاں جمع کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ کیسے مل کر ایکوا انڈسٹری کے لیے نئی راہیں ہموار کی جائیں۔ انہوں نے آل ٹیک کی اس کاوش کو سراہا اور کہا کہ یہ ورکشاپ یقینا سب کے لیے منفرد اور مفید ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر شہزاد نوید جدون
ڈائریکٹر ، سی ای او ۔آل ٹیک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ
ورکشاپ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ڈائریکٹر ، سی ای او آل ٹیک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ ڈاکٹر شہزاد نوید جدون کا کہنا تھا کہ یہ ایک سفر ہے جہاں ہمیں مل کر انڈسٹری کے فروغ کے لیے مختلف پہلوﺅ ں ، جینیات، فیڈ اینڈ فیڈنگ، ایکوا مینجمنٹ ، پرسیسنگ اور انسانی وسائل (ایچ آر) پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکوا کلچر فش فارمنگ میں بڑھتی جدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب ہمیں اس سیکٹر کو ایک انڈسٹری کی طرح نئی جہت دینی ہوگی۔ انہوں نے حاضرین کو ایکواکلب کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم بالخصوص ایکواکلچر انڈسٹری کے ماہرین پر مبنی ہے اور اس کا مقصد لوکل انڈسٹری کو درپیش مسائل کامل کر حل تلاش کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ سے پہلے ایک انڈسٹری سروے کیا گیا جس میں دیکھا گیا کہ انڈسٹری کے کون سے بڑے مسائل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں ایکوا کلچر مستقبل کی فارمنگ ہے اور مچھلی مستقبل کی پروٹین ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات یہ ہیں کہ مچھلی ایک بہترین کنورٹر(efficient converter) ہے اور دوسرا اس کے ماحول پر برعکس دوسرے پروٹین ذرائع جیسے پولٹری اور ڈیری وغیرہ کے قدرکم منفی اثرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروٹین سے ہم اپنے ملک کے لوگوں کی پروٹین کی ضروریات کوپورا کرسکتے ہیں اور اس کے ذریعے اچھا روزگار بھی مہیا کیا جاسکتا ہے۔ انڈسٹری کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں لوکل ریسرچ موجود نہیں اور زیادہ تر بین الاقوامی ریسرچ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت ہے تو صرف سب کو اکٹھا کرنے کی اور نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کی۔
اس سلسلے میں انہوں نے فورآرز(4R’s) ریسرچ، رزلٹ ، رسپونس اور رٹرن کا ماڈل پیش کیا۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے (ABRS) ایکوا بزنس اینڈریسرچ سکول کا ماڈل بھی پیش کیا۔ جس کا مقصد پبلک، پرائیویٹ اکیڈمیہ کا ایک یونٹ بنانا ہے جہاں مارکیٹ کے مسائل اور ضروریات پر مبنی باہمی اشتراک سے ریسرچ کی جائے اور فارمز اور انڈسٹری کو ایکوا بزنس سرمایہ کاری پر منافع (ROI)کے متعلق آگاہی فراہم کیجائے۔ ان کاکہنا تھا کہ ایکوا انڈسٹری کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم شروع ہی سے درست سمت کا تعین کرکے کام کریں۔ انہوں نے ہیچری، فیڈ ایکوامینجمنٹ اور پروسسنگ کے مسائل کے حل کے لیے (Aqua Epicenter)، فیز فیڈنگ، ایکوا ویلیوکریشن ماڈل، ٹریننگ ، ماڈل فارمز اور فارم اکنامکس کورسز کی تجاویز دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی معتارف کروانا مسئلہ نہیں ہے جب کہ اصل اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کیسے اس کو مو¿ثر اور منافع بخش بنایا جائے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ فارمرز آگاہی پروگرام کروائے جائیں۔ پروسیسنگ سے متعلقہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی لوکل مارکیٹ کو سمجھنے کی بے حد ضرورت ہے اور یہ صرف تب ہی ممکن ہے جب ہم مل کر کام کریں۔ ایکواویلیو کریشن ماڈل بیان کرتے ہوئے ان کہا کہنا تھا کہ ہمیں فارم مینجمنٹ کے لیے ایکوا ٹریکر کا استعمال اور Mycotoxinمینجمنٹ پر توجہ دینا ہوگی۔گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ کیا ہم
ڈاکٹر جدون کا کہناتھا کہ ہمیں مل کر سوچنا اور کام کرنا ہوگا کیونکہ یہی ایک بہتر لائحہ عمل ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر ریحا ن اشرف
اسسنٹ بزنس ڈویلپمنٹ منیجر،آل ٹیک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ
ڈاکٹر ریحا ن اشرف ، اسسنٹ بزنس ڈویلپمنٹ منیجر آل ٹیک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ نے فارمرز کو ایکوا ویلیو کریشن ماڈل سے متعلقہ معلومات فراہم کی نیز ایک سال میں اس ماڈل کے ذریعے فارمز کو دی جانے والی آن فارم سروسز کو بھی حاضرین کے ساتھ شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے وہ فارم آڈٹنگ اور فارم ٹولز کے ذریعے فارمرز کے مسائل کو دور کرتے ہیں۔

فیڈ اینڈ فیڈنگ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمتین کا کہنا تھا کہ مچھلی کی بڑھوتری کااور قوت مدافعت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بنیادی نیوٹرینٹنز کے ساتھ اضافی نیوٹریشن پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مچھلی کی فیڈزیادہ تر اینیمل اوریجن (Animal Origin)سے تیار کی جاتی ہے جس کے مچھلی پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ جوکہ بیماریوں ، تناﺅ اور معاشی نقصان کی وجہ بنتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مچھلی کو فنگنشنل فیڈدی جائے جو اس کو ان مسائل سے لڑنے کے لیے تیار کرسکے۔ فنگشنل فیڈ کے فوائد بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف بڑھوتری کے عمل کو بہتر کرتی ہے بلکہ افزائش نسل جیسے اہم مرحلے کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔ نیز پروڈکٹ کوالٹی کو بھی بہتر بناتی ہے۔ مختلف اجزاءادرک، لہسن میکروالجی، مورنگا (سوہانجنا)، Seaweedکو فنگشنل فیڈ میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور ان کا اندراج صرف چند ملی گرام میں ہوتا ہے۔ پودوںسے تیارکردہ فیڈ میں منفی غذائی عنصر (انٹی نیوٹریشنل فیکٹر)پائے جاتے ہیں۔ جن کے لیے فیڈ میں چند خامروں(Enzymes)کا استعمال کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ہی خمیر، پروبائیوٹکس ، پری بائیوٹکس ،اوگینک ایسڈ اور مائکوٹاکسن (Mycotoxin binder)کا استعمال بھی فنگشنل فیڈ بنانے کے لیے عام ہے۔
پروسیسنگ اور جدید ٹیکنالوجی پر بات کرتے ہوئے محمد شاہد اقبال سندھوڈائریکٹر توکل تلاپیہ ہیچری کا کہنا تھا کہ فش ایک ایسا پروٹین کا ذریعہ ہے جو خوراک کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں مفید /کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایکوا کلچر اور فش فارمنگ کو عام کریں اور لوگوں کے لیے پروٹین کے ساتھ ساتھ بہترذریعہ معاش بھی فراہم کرسکیں۔ توکل تلاپیہ ہیچری کی کامیابی بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال تلاپیہ کا بچہ ایک ماہ پہلے ہی دستیاب ہوگا جوکہ فارمرز حضرات کے لیے نہایت خوش آئند بات ہے اور یہ بھی بتایا کہ توکل تلاپیہ ہیچری اس سال کیٹ فش فارمنگ کا بھی آغاز کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکواکلچر میں بہت استعداد(Potential) ہے ۔ جس کے ذریعے ہماری معاشی اور سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ ہماری ایکسپورٹ میں بھی بہتری ہوسکتی ہے۔ اس سیکٹر میں خواتین بھی اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں اور پروسیسنگ یا فارمنگ میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ھتا کہ ہمیں پرڈکشن کے ساتھ ساتھ پروڈکٹ ویلیو کوبڑھانے پربھی توجہ دینی چاہیے جوکہ ہمارے کاروبار کے علاوہ ہماری سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً50فیصد آبادی کو نیوٹریشنل غذا میسر نہیں اور 45فیصد بچوں کی غذائی نشوونما نہیں ہوتی اور وہ اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم عام عوام کے لیے سستی مچھلی کی فراہمی پر کام کریں۔ ہمارے لیے بہتر ہے کہ ہم عوام میں چھوٹی مچھلی کھانے کا رحجان پیدا کریں جوکہ گھروں میں پالی جائے جس سے نہ صرف فیملی نیوٹریشن بہتر ہوگی بلکہ سرمایہ کاری پر منافع (ROI)میں بھی خاصہ فرق پڑے گا۔ اس سلسلے میں آگاہی مہم کا آغاز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سالوں میں بہت سی جدید ٹیکنالوجی جس میں فنگشنل فیڈ، پروسیسنگ یونٹ،آر اے ایس (RAS)، آئی پی آرایس(IPRS) اور شرمپس فارمنگ (Shrimps Farming)پاکستان میں متعارف کروائی گئی ہیں۔ یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ فارمرز کو زیادہ سے زیادہ راہنمائی فراہم کی جائے کہ کیسے وہ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے فی ایکڑپیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے توکل تلاپیہ ہیچری پر متعارف کروائی گئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں بھی فارمرز کو آگاہ کیا۔
ایکوا کلچر ٹیکنالوجی اور فارم مینجمنٹ کے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ناہید بانو اسسٹنٹ پروفیسر میاں محمد نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی ملتان کا کہنا تھا کہ فارمرز کے لیے بے حد ضروری ہے کہ وہ فارمنگ کا آغاز کرنے سے پہلے اپنے مقصد کی نشاندہی کریں۔ ایک منصوبے کے تحت فش فارمنگ کریں گذشتہ سالوں میں پاکستان میں جدید فارمنگ کے طریقے دیکھنے میں آئے ہیںجن میں کیج کلچر(Cage Culture)، آئی پی آر ایس(IPRS)، آر اے ایس (RAS) اور ایکواپونک (Aquaponic)شامل ہیں۔
مچھلی کی نئی اقسام جیسے تلاپیہ اور کیٹ فش بھی متعارف کروائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مچھلی کو(Integrated) فارمنگ کے ذریعے بھی فارم کیا جاسکتا ہے۔ جس کی عام مثال پولٹری اور بطخ فارمنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی طریقے سے فارمنگ تب ہی کامیاب ہوسکتی ہے جب اس کی مینجمنٹ پر دھیان دیا جائے۔ فارمرز کو اپنی مارکیٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس میں کسٹمر سیٹسفیکشن ، مچھلی کی مقبول اقسام، سائز اور پروڈکشن کا انتخاب(فنگرلنگ یا بروڈسٹاک) سرفہرست ہیں۔ فارم کی ترقی کے لیے دو چیزیں نہایت اہم ہیں جس میں ایک تو ریکارڈ کیپنگ ہے اور دوسرا آپ کی لیبر۔ کسی بھی فارم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی لیبر کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ پرعزم رہیں اور منظم طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔

پینل ڈسکشن کا آغاز ڈاکٹر شہزاد نوید جدون نے علامہ محمد اقبال ؒاس شعر سے کیا ۔
دل میں خدا کا نام ہونا لازم ہے اقبال
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی
” آئیڈیا کے ساتھ انسان میں لگن کا ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے جیسے (Mini Me)تیار کریں جو کل کو اگر ہم نہ بھی ہوں تو ہمارے عزم کو لے کر چل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد یہ تھا کہ اچھی اور منفرد معلومات کو عام کیا جائے ، روابط(Linkages)کو مضبوط کیاجائے تاکہ ہم سب مل کر اس انڈسٹری کے فروغ کے لیے کام کرسکیں“۔ڈاکٹر جدون
٭ فارمرز کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے جاوید اقبال سندھوڈائریکٹر توکل تلاپیہ ہیچری اینڈ فارمز کا کہناتھا کہ گورنمنٹ کو بجائے ہیچری اور مچھلی کا بچہ مہیا کرنے کے فارمرز کی کپیسٹی بلڈنگ (Capacity Building)پر توجہ دینی چاہیے۔ریسرچ کے ذریعے مچھلی کی نئی اقسام متعارف کروانی چاہیے۔ فارمرز کو جدید فارمنگ ٹیکنالوجیز سے متعلقہ ٹریننگ اور آگاہی فرام کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کوالٹی پروڈکٹ عام عوام کے لیے دستیاب ہوں گی تو خود بخود اس کی ڈیمانڈ بھی بڑھے گی۔
٭ ڈاکٹر شہزاد نوید جدون ڈائریکٹر/سی ای او آل ٹیک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ نے اس حوالے سے کہا کہ اس وقت نہایت ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ”ایکوا فارمرزایسوسی ایشن “ کی تشکیل کریں جوکہ بالخصوص فارمرز کی نمائندہ جماعت ہو اور ان فارمرز کے منافع کو محفوظ کرسکے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی طور پر کام کرے ۔
٭ ڈاکٹر عبدالمتین کا کہنا تھا کہ اس وقت ضرورت فشریز پالیسی کی ہے۔ابھی تک پاکستان میں کوئی فشریز پالیسی نہیں ہے جوکہ اس انڈسٹری کی ترقی نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
٭ ڈاکٹر ریحانہ اقبال ایسوسی ایٹ پروفیسرزوالوجی بہاﺅالدین یونیورسٹی ملتان نے مچھلی کی بطور اچھی پروٹین کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سکول لیول پر فش پروٹین پروگرام متعارف کروانے چاہیے کیونکہ اچھی خوراک اچھے صحت مند معاشرے کی نشانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں انڈرواٹر ایگریکلچر ، ایکوا کلچر فارمنگ پر زور دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مچھلی نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے مستقبل کی پروٹین ہے۔
٭ ڈاکٹر شوکت علی بھٹی ،ایسوسی ایٹ پروفیسر ریٹائرڈ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا کہنا تھا کہ ہمیں قدرتی وسائل کے موثر استعمال پر توجہ دینا ہوگی اور مچھلی ایسا پروٹین کا ذریعہ ہے جو کہ ان قدرتی وسائل کے موثر استعمال سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
٭ ایچ آر ٹریننگ اور ڈویلپمنٹ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد مدثر شہزاد اسسنٹ پروفیسر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ ایکواگریجویٹس کی پیشہ ورانہ تربیت پر فوکس کیا جائے اور ان کے لئے انٹرنشپ پروگرام متعارف کروائے جائیں جس میں وہ فارمرز، فیڈ ملز ، ہیچری اور پروسسنگ یونٹ پر کام کرکے تجربہ اور مہارت حاصل کرسکیں۔
ورکشاپ کے اختتام پر ڈاکٹر محمد لطیف اسسٹنٹ پروفیسریونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور۔ ملتان کیمپس نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ شرکاءکی جانب سے ورکشاپ کو سراہا گیا۔