URDU NEWS

ویٹر نر ی یو نیو ر سٹی کے راوی کیمپس پتو کی میںما ہی پرو ری کا عا لمی دن شاندار طریقے سے منا یا گیا

یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈاینیمل سائنسز لا ہور کے ڈیپار ٹمنٹ آف فشر یز اینڈ ایکوا کلچر نے گذ شتہ روزپنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ، ہا ئیر ایجو کیشن کمیشن -ٹیکنا لو جی ڈیویلپمنٹ فنڈاور پاکستان سا ئنس فا ﺅنڈیشن کے با ہمی اشتراک سے راوی کیمپس پتوکی میں ما ہی پرو ری کا عا لمی دن انتہا ئی جو ش و خروش کے ساتھ منا یا ۔د ن کی منا سبت سے آ گا ہی واک ،جال ڈال کر مچھلی پکڑنے، مچھلی گوشت سے مصنو عات کی کوکنگ کے مقا بلو ں اور سیمینار کا ا نعقاد بھی کیا گیا ۔جس کا مقصد پا کستا ن میں ما ہی پر وری کے فروغ کو اُ جا گر کر ناتھا۔سیمینار کی صدارت پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر عابد محمود نے کی جبکہ دیگر اہم شخصیات میںوائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد،ڈین فیکلٹی آف فشریز اینڈ وا ئلڈ لا ئف پرو فیسر ڈا کٹر نو رخا ن،چیر مین ڈیپا ر ٹمنٹ آ ف فشر یز اینڈ ایکوا کلچر ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے علا وہ فش فا ر مر ز ،فش فیڈ انڈسٹری سے نما ئند گان ، یونیورسٹی فیکلٹی ممبرا ن ، طلبہ، سٹیک ہولڈرز اور پرو فیشنلز کی بڑ ی تعداد نے شر کت کی ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہو ئے ڈاکٹر عابد محمود نے مچھلی سارا سال کھانے کے رجحان کو عام کرنے کی ضرورت واہمیت پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ مچھلی کا گوشت پروٹین حا صل کرنے کا ایک سستا انمول ذر یعہ ہے۔اُ نہو ں نے کہا کہ صارف تک مچھلی گوشت سے بنی معیاری مصنو عات کی فراہمی پر کام جاری رہے گا نیز پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ انڈسٹری اور سٹیک ہو لڈرز کے باہمی اشتراک سے چلنے والے پراجیکٹس کی ما لی معاونت بھی کرے گا۔ پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد نے کہا کہ فش انڈسٹریز کا تعلیمی ادارے کے ساتھ الحاق پاکستان میں فشر یز اینڈ ایکوا کلچر سیکٹر کی تر قی کے لیئے انتہا ئی مو ثر ہے۔ سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر عابد محمود اور پرو فیسر نسیم احمد نے کوکنگ کے مقا بلو ں میں جیتنے والے طلبہ کے درمیان انعا می پرائز تقسیم کیے۔ قبل ازیں آ گا ہی واک کا انعقاد ہوا جس کی مشتر کہ قیا دت ڈاکٹر عابد محمو اور د وا ئس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹرنسیم احمد نے کی جبکہ فش فا ر مر ز ،فش فیڈ انڈ سٹری سے نما ئند گان ، یونیورسٹی فیکلٹی ممبران ، طلبہ، سٹیک ہولڈرز اور پرو فیشنلز کی بڑ ی تعداد نے واک میں شر کت کی ۔ دریں اثنا اُ نہو ں نے فش پرا سیسنگ یونٹ کے مختلف سیکشن کا دورہ بھی کیا اور مچھلی گوشت سے بنی مصنو عات کے معیار کو دیکھا اور تعریف بھی کی۔