URDU NEWS

وزیراعظم نے ٹیکسٹائل پالیسی 2020-2025 کی منظوری دیدی

وزیراعظم عمران خان نے ٹیکسٹائل پالیسی 2020-2025 کی منظوری دیدی ہے وزرات تجارت کے ٹیکسٹائل ڈویڑن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ٹیکسٹائل پالیسی منظوری کے لیے اقتصادی رابط کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، ٹیکسٹائل پالیسی منظوری کے لیے آئندہ چند روزمیں ای سی سی کو بھجوائی جائے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق حکام وزارت تجارت نے کہا کہ پالیسی حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوائی جائے گی پالیسی میں2025 تک ٹیکسٹائل برآمدات20 ارب80 کروڑ ڈالرتک لے جانے کی تجویز پیش کی گئی ہے دستاویز کے مطابق ٹیکسٹائل پالیسی میں ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات ، بجلی، گیس کے ٹیرف کم، فنانسگ بڑھانے اورنئی منڈیوں تک رسائی کی تجویز اور ٹیکسٹائل سیکٹرکو بجلی9 سینٹ سے کم کرکے7.5 سینٹ پرفراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل کے لیے آر ایل این جی گیس6.5 ڈالرفی ایم ایم بی ٹی یو فراہم کرنے کی تجویز، ٹیکسٹائل شعبے کے لیے قدرتی گیس786 روپے ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز اور تک مین میڈ فائبر30 فیصد سے بڑھا کر50 فیصد تک استعمال کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے. اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی مشینری کے لیے لانگ ٹرم فنانسنگ بڑھایا جائے اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مارک اپ کی شرح 5 فیصد تک برقرار رکھی جائے ٹیکسٹائل شعبے میں ہیومین ریسورس ڈیویلپمنٹ پر فوکس کرنے کی تجویز اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ادھر چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا ہے کہ ایک ہفتے میں ایک من روئی کی قیمت میں 300 سے 400 روپے کا اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہا کہ روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان ہے اور اس وقت پاکستان میں روئی کی قیمت 9 ہزار 700 فی من ہے. احسان الحق کا کہنا ہے کہ ڈالر مہنگا اور نیویارک کاٹن میں تیزی کے سبب روئی کی قیمت بڑھنے کا رجحان ہے جبکہ تین دہائیوں بعد ٹیکسٹائل ملز مکمل طور پر فعال ہیں انہوں نے بتایا کہ آڈرز پورے کرنے کے لیے بیشتر ملز نئی مشینری لگا کر پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ دوسری جانب رواں سیزن پاکستان میں کپاس کی پیداوار 30 سال کی کم ترین سطح پر رہنے کے خدشات ہیں رواں کاٹن ایئر میں کپا س کی پیداوار 65 لاکھ بیلز کے لگ بھگ رہنے کے امکانات ہیں، پاکستان میں 30 برسوں میں یہ کاٹن کی کم ترین پیداوار ہے۔احسان الحق نے بتایا کہ اس کمی کی اہم وجوہات میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیںانہوں نے کہا کہ پیداوار کم ہونے کی وجہ سے روئی کی قیمتیں گزشتہ 10 سالوں میں بلند ترین 10 ہزار 500 روپے فی من ہے۔